ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حوثی لیڈر کی علی صالح کے بیٹے کی گرفتاری کی دھمکی

حوثی لیڈر کی علی صالح کے بیٹے کی گرفتاری کی دھمکی

Sun, 10 Sep 2017 20:35:50    S.O. News Service

صنعاء،10؍ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)یمن میں آئینی حکومت کے خلاف سرگرم حوثی گروپ کے ایک سرکردہ لیڈر نے اپنے حلیف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے کی گرفتاری کی دھمکی دی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق علی صالح کے بیٹے صلاح علی صالح کی گرفتاری کی یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری جانب دارالحکومت صنعاء میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ حوثیوں کی جانب سے دارالحکومت میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا ہے۔اسی اثناء میں حوثی گروپ کے ایک سرکردہ لیڈر عبدالحکیم الخیوانی نے الزام عائد کیا ہے کہ 27 اگست کو صنعاء میں حوثیوں اور علی صالح کے حامیوں کے درمیان کشیدگی کا ذمہ دار مں حرف سابق صدر علی صالح کا بیٹا صلاح علی صالح ہے۔ اسی کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔عبدالحکیم الخیوانی حوثیوں کی قائم کردہ نام نہاد حکومت میں نائب وزیر داخلہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں ہنگامی حالت کا نفاذ ناگزیر ہے بالخصوص جب سے ان کے حلیف علی صالح نیاتحاد کو نقصان پہنچاتے ہوئے باغیوں کا تختہ الٹنے کے لیے عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی اس کے بعد صنعاء میں ہنگامی حالت کا نفاذ ضروری ہوگیا تھا۔الخیوانی جنہیں عسکری اور فوجی امور سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود باغیوں نے بریگیٰڈیئر کا لقب دے رکھا ہے حوثیوں کے ترجمان ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ صنعاء میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا مقصد مجرموں کا تعاقب کرنا اور انہیں دارالحکومت میں اپنی مرضی کرنے سے روکنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سیکیورٹی ادارے بہتر طریقے سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکتے ہیں۔خیال رہے کہ 27 اگست کو سابق صدر علی عبداللہ صالح نے صنعاء میں اپنی پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا جس پر حوثیوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ اس موقع پر حوثیوں اور علی صالح کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔


Share: